بنگلورو8مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج نریندر مودی پر کرناٹک اسمبلی انتخابات میں معاشرہ کی تقسیم کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ من منموہن سنگھ نے کہا کہ یہ انتہائی چونکانے والا ہے کہ مودی زبان و بیان کے معیار سے اس قدر گرجائیں گے اور ایسی زبان استعمال کرنے لگ جائیں گے جو ایک وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتی ۔انہوں نے مرکزی حکومت پر ان کے تباہ کن پالیسیوں او راقتصادی بدانتظامی '' کو لے کر بھی شدید تنقید کی۔ منموہن سنگھ نے ذاتی حملوں کے لئے بھی مودی پر تنقید کی اور کہا کہ کسی بھی وزیر اعظم نے اپنے عہدے کا استعمال اپنے حریف کے بارے میں کچھ کہنے کے لئے نہیں کیا جو مودی آئے دن کررہے ہیں یا ہندوستانی تاریخ کا بدترین لمحہ ہے ۔ یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام سے جس طرح کی توقع کی جا رہی وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ معاشرہ میں تقسیم کی کوشش کررہے ہیں جس کا نتیجہ عوام کو بھگتنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم اس حد تک نیچے چلے جائیں گئے اور ایسی زبان استعمال کر یں گے جو کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتی خاص طور اس وقت جب کہ وہ ایک ایسے ریاست میں ہوں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔سنگھ نے کہا کہ کسی بھی وزیر اعظم نے ان انتخابی وقت میں ایسی زبان استعمال نہیں کیا جیسا کہ مودی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے واقعی لگتا ہے کہ وہ اب سبق سیکھیں گے اور ہمارے معاشرے کی تقسیم کی کوشش نہیں کریں گے جیسا کہ وہ طویل عرصے سے کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج قومی سیاست پر اثر ڈالیں گے جو کہ ملک کے سب سے زیادہ خوشحال ریاستوں میں سے ایک ہے۔ منموہن سنگھ نے بینکاری کے شعبے میں ہوئے فراڈ کے تحت حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بینکوں سے ٹھگی جانے والی رقم تقریبا چوگنی ہو گئی ہے۔ یہ ستمبر 2013 میں 28,416کروڑ روپے تھی جو ستمبر 2017 میں بڑھ کر 1.11 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ اس درمیان، ان فراڈ کے مجرم سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ میں بہت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ مودی حکومت کا اقتصادی بدانتظامی بینکاری کے شعبے میں عام لوگوں کے اعتماد کو آہستہ ۔ آہستہ ختم ہوگیا ہے ۔منموہن سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمارا ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہمارے کسان گہرے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، بہتر مستقبل کے خواہش مند ہمارے نوجوانوں کو مواقع نہیں مل رہے ہیں اور ہماری معیشت کی ترقی کی شرح نمو لڑھک گئی ہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ افسوسناک سچ ہے کہ ان تمام بحرانوں سے مکمل طور پر بچاجا سکتا تھا؛لیکن عمداً اپنی پالیسوں کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے مطابق مودی حکومت کی دو بڑی بھول نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو عجلت میں نافذ کرنا ہے جن سے بچا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جب کوتاہیوں پر توجہ دلائی جاتی ہے تو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کی بجائے حکومت کی توجہ نزاع اور اس کو دبانے کی ہوا کرتی ہے ۔اقتصادی پالیسیوں کے لوگوں کی زندگی پر اہم اثرات پڑنے کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ جن کو فیصلہ لینے کا کام سونپا گیا ہے وہ پالیسیوں اور منصوبوں پر خاص توجہ دیں اور صرف تصور کی بنیاد پر کام نہ کریں ؛بلکہ زمینی حقائق پر نگاہ رکھتے ہوئے اقدامات کریں ۔ انہوں نے واضح طور پر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک پیچیدہ اور متنوع ملک ہے اور کوئی ایک شخص ساری عقلمندی کا ذخیرہ نہیں ہو سکتا ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ ہر بار جب بی جے پی حکومت کی کسی تباہ کن پالیسی کے بارے میں سوال پوچھا جاتا ہے تو ہمیں ہر بار سننے کو ملتا ہے کہ ان کے ارادے نیک ہیں۔ اب بھلاکوئی عقلمند ہی جواب دے سکتا ہے کہ تباہ کن پالیسیوں میں بہتری کس طرح اور کیسے پنہاں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپنے ارادے نیک ہونے کا دعوی کرتی ہے لیکن ان کے ارادوں سے ملک کو بھاری نقصان ہوا ہے جن کی تلافی نہیں ہوسکتی ہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ تجزیہ کا فقدان بھارت اور ہمارے اجتماعی مستقبل پر بھاری پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں ترقی کی شرح اوسطا سات فیصد تھی۔ ایک وقت تو عالمی حالات میں اتار چڑھاو کے باوجود یہ آٹھ فیصد تھی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے دور کے دوران بین الاقوامی ماحول بہترہے اور تیل کی قیمتیں بھی کم ہیں پھر بھی سب کچھ برعکس ہے ،اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت زیادہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا آپ بھی سوچ سکتے ہیں ۔